لسانی نفرت کا ذمہ دار وفاق

آئیے جانتے ہیں کہ یہ نفرت کا معاملہ ہے کیا؟
کیا ایوب خان نے الیکشن جیتنے کی طمع میں اہلِ کراچی کی ہر دلعزیز فاطمہ جناح کو اُس وقت کی یوتھیائی گراوٹ کا شکار بنا کر وفاقی پاکستان کی بنیادوں میں نفرت کی دراڑ ڈالی؟

کیا پیپلز پارٹی نے اپنے ایک دورِ حکومت میں سِندھ اسمبلی میں لِسانی بل پاس کرواکر سِندھی کو سرکاری زبان قرار دے کر اردو کو مکمل نظر انداز کرنے کے عمل کا آغاکیا؟

یا پھر جنرل ضیا الحق نے کوٹہ سسٹم کی وفاقی نا منصفانہ تلوار کا نشانہ بھی اسی اُردو بولنے والی آبادی کو بنا کر نفرت کی آگ بھڑکائی گئی؟


اگرچہ سندھ میں بڑی اکثریتی آبادی اردو بولنے والوں کی ہو گئی ہے لیکن مردم شُماری کے ذریعے یہ حقائق بھی جھٹلانے کی مذموم کوشش وفاق نے بارہا کی ہے. اور اس بار یہ تاریخ پھر دہرائی گئی ہے


ذولفقار مرزا اور عزیر بلوچ کو بھی انسانیت سوز مظالم ڈھانے کے لئے اسی شہر کے اُردو والے ملے تھے. اس مائنڈ سیٹ کی کوئی ایک زبان تو نہیں لیکن یہ سب ایک زبان والوں کے پیچھے مل کر پڑے ہوئے ہیں


جنرل نصیر اللہ بابر سے لے اب تک آنے والے سبھی مُغلیائی ناموں والوں نے آپریشن کے نام پر اس شہر کے باسیوں کا بے دردی سے معاشی و انسانی قتلِ عام کیا


آج کے دور میں نسل کُشی اس طرح بھی کی جاتی ہے کہ معاشرے سے استادوں, ڈاکٹروں, انجینئیر, شاعر, ادیب اور لکھاریوں کو ختم کردو


جِس معاشرے میں استاد بیڑیوں میں سر جھکائے اورمجرم سینہ تانے سر اٹھائے گھومے تو سمجھ جائیے کہ یہاں نسل کشی کی سازش اپنے عروج پر ہے


غریب اُردو بولنے والوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے مائنڈ سیٹ نے ان کی مادرِ علمی سے لے کر خیراتی اِداروں تک کو نہیں بخشا.یتیموں بیواؤں اور بے سہارا افراد سے ان کا آخری سہارا کے کے ایف بھی چھین لیا گیا


اِسی سازشی مائنڈ سیٹ نے اردو بولنے والے مہاجروں کے نمائندوں کو کبھی بریف کیس کے ذریعے اور کبھی جِناح پور نقشوں کے الزام میں دھرنے کی ناکام فلمیں بنائیں جو پہلے ہفتے ہی اتر کر ڈبہ بند ہو گئیں اور ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ گئی


اسی طرح پورے ملک کو چھوڑ کر ناجائز تجاوزات کی مِسماری بھی انہی کا نصیب ہوئی جو کہ ہجرت کے بعد سے اب تک اپنے اپنے چھوٹے کاروبار لگائے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے آرہے تھے


سوچئے اِن حالات میں آج اگر محترمہ فاطمہ جِناح حیات ہوتیں اور شہرِ قائد کی نمائمدگی کر رہی ہوتیں تو اُن کو کتنی آزادی نصیب ہوتی؟ شاید وہ بھی کسی پردیس میں دربدر کر دی جاتیں اور اُنکا نام لینا غداری قرار پایاجاتا


یا پھر اگر خان لیاقت علی خان بھی اگر اِس شہر میں سیاست کرتے تو موجودہ مائنڈ سیٹ کا وفاق ان کو بھی بھارتی ایجنٹ والے منجن کا فارمولا تھوپ کر قائدِ ملًت کی تحریر تصویر و تقریر پر پابندی لگوا چکا ہوتا


آج جب شہرِ سُخنوراں کے مکہ یعنی اُردو بازار کراچی پر لینڈ مافیا سرکار نے بُری نظر ڈالی تو یہ سارے پُرانے زخم پھر سے تازہ ہوگئے


شہرِ قائد کا باسی ایک بارپھر یہ کہتا سُنائی دیتا ہے کہ ہر بار کی طرح مجھ سے نفرت کے پیچھے روائیتی مائنڈ سیٹ والا وفاق ہے اور وجہ میری زبان ہے


اسقدر نفرت کا شکار شہری نہ جانے کیوں یہ سوچنےپر مجبور ہو گیا ہے کہ….لگی جو آگ تو ہر بار میرے گھر میں لگی ..ِِ ہمارے شہر میں قیت ہمارے سر کی لگی


وفاق جب عوام الناس کے اِن سوالیہ نشان پر خامشی اختیار رکھے گا تویہ بے قرار شہری اپنے ہر سوال کا جواب اور دل کی بے سکونی کا علاج کہاں سے پائے گا


بقول شاعر….
دِل کہیں جب سُکوں نہ پائے گا ….
تُم کو ایک شخص یاد آئے گا…..

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s