یار یہ مسلم امہ کیا کر رہی ہے ؟

دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم دیکھ کر ہر آئے دن پاکستانیوں کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ یار یہ مسلم اُمہ کیا کر رہی ہے؟ لیکن کہیں نا کہیں مسلم ممالک کی عوام بھی یہ سوچ رہی ہو گی کہ یار یہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟

کیوں ان کے ہاں سے مسخ لاشوں کی تصاویر انٹر نیٹ پر دل دہلانے کے لئے آجاتی ہیں؟ یار یہ فاٹا کون سی جگہ ہے ، یہ منظور پشتین کون ہے؟ ہر تھوڑے دن بعد وائٹ ہاوس کے سامنے ایک مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے ،یار یہ مہاجر کون لوگ ہیں؟ پریس کلب کوئٹہ کے باہر خواتین کیوں رو رہی ہیں؟ اِن کا مسئلہ کیا ہے؟ مجاہدین و فدائین کا تو معلوم تھا اب یہ سرمچار کون لوگ ہیں؟

اس ملک میں سُنا ہے کہ بلاگرز اور صحافی بہت تھوڑی عمر لکھوا کر آتے ہیں ، ان لکھنے والوں کو لاپتہ کرکے کون ماررہا ہے؟ ایسا کیا سچ ہے جسے چھپانے کے لئے لوگ ہی چُھپا دئیے جاتے ہیں؟

اچھا یہ کراچی بھی اسی ملک کا حصہ ہے ؟ تو پھر صرف وہاں پر فوج کشی کیوں کی جاری ہے؟ اوہ.. اچھا ابھی وہاں جمہوریت کی اِجازت نہیں ہے ، پہلے ملک کے مرکز میں آئین و جمہوریت کا تجربہ ہوگا پھر دھیرے دھیرے دیگر حصوں میں بھی اسے رائج کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ شاید ۔۔

ایک روایت کے مطابق شہنشاہ اکبر نے اپنی ایک کنیز انارکلی کو شہزادہ سلیم سے محبت کے جُرم میں دیوار میں چنوا دیا تھا ، اسی طرح پاکستان سے محبت کے جرم میں ریاستی اداروں نے بانیانِ پاکستان کی اولادوں کو غدار ثابت کرنے کے لئے ٹائلیں لگوا کر چمکتا دمکتا پنی پیک اسلحہ دیواروں میں چُنوا دیا اور پھر معجزہ سازی کے ماہر کاریگروں نے دیواروں میں چنوایا گیا ، اور پانی کی ٹنکیوں میں چھپایا گیا اسلحہ بالکل ترو تازہ برامد بھی کروالیا، واہ ۔

ویسے پچھلے چُناؤمیں شہنشاہ اکبر نے اپنے لاڈلے پرنس کو بھی بزورِشمشیر چنواکر وزیرِاعظم بنوادیا تھا.

ستم ظریفی یہ کہ ان کے اسکرپٹ کی رسائی اب ساؤتھ افریقہ تک ہو گئی ہے. وہاں تک بھی قنون کے لمبے ہاتھ پہنچ گئے ہیں یہ معجزہ بھی ہماری لا انفورسمنٹ ایجنسیوں کا ہی ہے جو وہاں موجود اپنے ہی کارندوں کو دوسروں کے بندے دکھا کر شاباش وصول کر رہے ہیں. اس نوعیت کی بہت سی کرشمہ سازیوں پر تو دنیا بھر کا میڈیا اور انسانی حقوق کے تمام عالمی ادارے بھی انگشت بدنداں ہیں ۔

اسلحے کی کوئی قومیت یا زبان نہیں ہوتی ہے، وہ یا تو سی پیک کی طرح میڈ اِن چائنا ہوتا ہے، یا علاقہ غیر میں تیار کردہ، لیکن جب وہ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے سجا کر سنوار کر پیش کیا جاتا ہے ، اور عوام کے ذہنوں میں یہ بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دیکھو ہم نے ملک کو لندن والی اُردوکی کتنی بڑی تباہی سے بچا لیا،تو زیادہ تر سمجھدار لوگ فوری طور پر چینل بدل لیتے ہیں کہ اسکرپٹ پرانا ہو گیا ہے کچھ نیا لاو۔

اگرچہ یہ پرانے اسکرپٹ والا قسط وار ڈرامہ ہر آئے دن نشر کیا جاتا ہے لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ یہ سب کون کر رہا ہے ؟ اورجب بات ہو کہ کون؟ تو پھر میڈم نور جہاں کا نغمہ کانوں میں گونجتا ہے کہ ا ے وطن کے سجیلے جوانو۔۔۔ میرے نغمے تمہارے لئے ہیں،ارے بھائی صاحب بہت نغمے بن گئے ، بہت گانے ریلیز ہو گئے ۔بس کردو بس ۔

ویسےآج ایک اہم مشورہ دینے کی جسارت کر رہا ہوں ، اے میرے وطن کے سجیلے جوانوں اپنے کام سے کام رکھو، لوگوں نے عالمی زنجیرِ عدل ہلانا شروع کر دی ہے ، چھوٹی بڑی چنگاریاں سُلگنا شروع ہو گئی ہیں ، ایسا نہ کہ کہ عالمی طاقت کے ایوانوں میں گونجتی یہ آوازیں جلد ہی کہیں ایک مسلمہ حقیقت بن کر ایک نیا چیلنج نہ بن جائیں ، دبی دبی چنگاریوں پر پانی ڈالا جاتا ہے پٹرول نہیں ۔

کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ملک کے سبھی شہریوں کو آزادانہ طور پہ آئین و قانون کے مطابق جینے کا حق دیا جائے، دو نہیں ایک پاکستان ، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ جتنے لاپتہ کئے ہیں انہیں ان کے پتے پر پہنچا کر حاضر کردو ،وہ لوگ جو کمزور دل کے تھے اور آپ کی پیار بھری چھترول سہ نہیں سکے، اور بس مر گئے ہیں, کم از کم انہیں نمازجنازہ اور کفن دفن کے لئے اُن کے اپنے پیاروں کے حوالے کردو، کیوں نہ سب کو پاکستانی سمجھ کر جینے کا بنیادی حق دیا جائے فار اے چینج ۔

کیا یہ اچھا نہیں ہوگا کہ سیاست ، ریاست ، عدالت ، صحافت اور حکومت میں مداخلت بند کردی جائے۔ یاد رہے کہ یہ وہ قوم ہے کہ اگر آپ اپنا بنیادی فرض ادا کرتے ہوئے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرو تو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح شانہ بشانہ کھڑی ہو گی، ورنہ جیسے حالت پیدا ہو رہے ہیں تو یاد رہے کہ دیمک اندر سے پہلے کمزور کرتی ہے ، باہر تو صرف ملمع ہوتا ہےیا پھرکلف والی یونیفارم.

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ففتھ جنریشن وار اور موجودہ میڈیا کی طاقت سے متاثرہ کوئی سوچ کسی طرح سے عسکریہ کی ابلاغی انٹیلی جنسیا صفوں میں شامل ہو کر انہیں یہ قائل کر چکی ہے کہ عوام کے دل جرات بہادری اور شجاعت کے عملی اقدامات سے نہیں بلکہ بس ایک آئٹم سانگ کے ذریعے جیتے جا سکتے ہیں اور اسی لئے وہ آئے دن ایک گانا ریلیز فرما دیتے ہیں ۔ ویسے دیکھا جائے تو نغموں نے ہمیں پہلے کون سی جنگ جتوادی تھی۔

ہر تھوڑے دن بعد نغموں کی آڑ میں قوم کو بے وقوف بناے والی یہی وہ سطحی سی سوچ ہے جو کہ کبھی کسی کی حُب الوطنی پر غداری کی تہمت لگواتی ہے ، کسی کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دلواتی ہے اور تو اور ، ان کی زبان و لسان سے اسقدر نفر ت کہ پانی کی ٹنکیوں سے فرفر اُردو بولتا ہوا میڈ اِن لندن اسلحہ بھی برامد کروا دیتی ہیں ، اور کبھی کسی کی افغانی روائیتی ٹوپی میں ایجنٹ کی سند پیدا کر دیتی ہے ۔

ایٹم بم سے لیس ادارےجب کسی ٹوپی سے ڈرنے لگ جائیں، جب انہیں یہ خوف ہو کہ اپنے شہیدوں کے قبرستان جانے والی پردے دار خواتین ریاست کے لئے خطرہ ہیں ، جب انہیں یہ ڈر ہو کہ لاپتہ کیمپ میں موجود بچیوں کی آوہ بکا اور بلوچ ماؤں کی سسکیوں سے ریاست کی سالمیت خطرے میں ہے ، تو پھر سوچیں کہ امریکہ اور ہندوستان جیسے ممالک کی تو چھینک مارنے سے کئی پتلونوں کو دوبارہ سُکھانا پڑ جائے گا.

بقول عمران خان بیس پچیس ہزار بندہ باہر نکل آئے تو ان جرنیلوں کو پریشانی لاحق ہو جاتی ہے ، یہاں ہم نے نستعلیق اُردو کا سہارا لیتے ہوئے الفاظ کی تپش کچھ کم کر دی ہے ، اب ہمیں تو لاڈلے جیسی رعایت دستیاب نہیں ہے نا ۔

کریں تو کیا کریں ، نادان مشیرانِ ریاست گانے بنانے میں سر دھنے لگے پڑے ہیں۔ اور اگر اسی طرح کے نام نہاد دانشوران ایٹمی وعسکری طاقت کو ایک نغمے میں سمو کر اس کی اہمیت اور پرکھوں کی بنائی گئی ساکھ کو کم کر تے رہیں گے تو ایک دن عوام بھی اپنے اداروں کی عظمت کو کسی بھولے بسرے نغموں جیسابُھلا کر نئے گیت گنگنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ دلوں میں جب لکیر آجاتی ہے تو جغرافیہ میں لائن کھنچنے میں دیر نہیں لگتی۔

گیا دورِ سرمایہ داری گیا .. تماشہ دکھا کر مداری گیا…اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ ایسے ڈرامہ نگاروں میراثیوں اور بچہ جمہوروں سے اِداروں کو نجات حاصل کر لینا چاہیئے ، بہت ہنسی اڑ چکی ، بہت مذاق اڑوالیا.

یاد رہے کہ بات ہے ساکھ کی اور حضرت وہ بھی کہیں نغموں اور پانی کی ٹنکیوں والے ڈرامےسے بنتی ہے ؟ اگر دنیا میں یہ بات ہو رہی ہے کہ یہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے تو پھر اس سوال کا جواب ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ یار یہ پاکستان والی مسلم امہ کیا کر رہی ہے؟

3 thoughts on “یار یہ مسلم امہ کیا کر رہی ہے ؟

  1. احسان گل

    بہت ہی زبردست قلم لکھا ہے اگر آپ عمل کیا جائے تو وہ دن دور نہیں کہ پاکستان مدینہ ریاست نہ بن جائے

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s