یار یہ مسلم امہ کیا کر رہی ہے ؟

Posted by
کچھ احباب کا کہنا ہے کہ ریاست کے ارباب اختیار یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ وہ شہری سندھ میں چاہے کتنے ہی لات و منات اور دیوی دیوتا بنا کر پیش کریں، عوام کے دل کا مزاجی خدا کوٗی اور ہی ہے جس کا نام الطاف حسین ہے ۔ ویسے حقیقت بھی یہی ہے اور لوگ اس کو سمجھ بھی رہے ہیں لیکن یہ جو لفظ ارباب اختیار ہے اس کی کئی تہیں ہیں اور اس میں کئی گہرائیاں ہیں۔
بات یہ نہیں کہ بھائی نے کچھ ایسی بات کردی ہو جو ماضی بعید اور قریب میں کسی نے نہ کی ہو، بات یہ ہے کہ جغرافیائی و اقتصادی طور پر وہ جس علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں پاکستان میں اسے سونے کی کان کہا جاتا ہے جس کے اندر بہت سے کان کن گھس چکے ہیں اور اب انہیں اس کی لت لگ گئی ہے ۔
جسقدر راقم بھائی سے واقف ہے یہ بات دعوے سے کی جا سکتی ہے کہ کہ ان کی ہر سانس، دھڑکن اور خیال میں اب بھی پاکستان ہی بستا ہے لیکن وہ جس اسٹیٹس کو کی نشاندہی عرصہ دراز سے کر رہے ہیں، اس سارے مسئلے کی جڑ بھی وہی ہے ۔ میرے بھائی سے یقینی طور پر کچھ سیاسی غلطیاں ہوئی ہیں، یہاں مراد بائیس اگست والے مردہ باد کے نعرے کی جانب نہیں، کیونکہ اگر بات یہی ہوتی تو ریاست ان کی واپسی کی بھی ایک تاریخ مقرر کر دیتی۔
بھائی نےاپنے تیزی سے بدلتی مشاورتی صحبت کے باعث کبھی سندھو دیش، کبھی آزاد بلوچستان اور کبھی پختون بیلٹ کی پچوں پر بیٹنگ شروع کر دی جس سے بہت سارے مہاجر نالاں ہو گئے اور دیش دروہی اس سوچ پر ریاست کے مالکان تو بلک پڑے، الطاف بھائی نے سب سے پہلے میرے ہی شو میں انٹرویو دیتے ہوئے علامہ اقبال کی نظم سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا لہک لہک کر ترنم سے پڑھی تو اس کے بعد انڈین چینلز کی لائن لگ گئی اسی طرح نریندر مودی کو مخاطب کرکے بھی بھائی نے کوئی پاکستان کی ترقی اور بقا کی پر امید گفتگو تو نہیں فرمائی یہ سب بھی ریکارڈ پر ہے ۔
کسی بھی خودمختار ریاست اور غیرت مند قوم کے لئے اپنے ہی شہری کی جانب سے اس طرح کی گفتگو پوائنٹ آف نو ریٹرن کے مترادف ہوتی ہیں اور ہونی بھی چاہیں۔
اب کچھ اندر کی بات بھی ملاحضہ فرمایئے، الطاف بھائی کے نظریات ، خیالات اور سیاسی ملاکھڑوں کے دھارے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آج کل ان کے ارد گرد کون چل رہا ہے، یعنی راتوں کو دیر تلک فون پر کون لگا ہے، وہ کون کچن کیبنٹ کا ساتھی ہے جو براہ راست بھارتی ایجنسی را کے کرنل میجروں کا نام لے کر بھائی کو تسلیاں دلا رہا ہے کہ بس آزادی اگلے موڑ پر اور پیسوں سے بھرا بریف کیس آیا ہی چاہتا ہے ، ویسے یہ سب کام تو سلیم بیلجیم اور اس طرح کے نجانے کتنے لوگ کر چکے ہیں، پیسے اگر کوئی لایا تو وہ فری کراچی والا لایا اور لالی پاپ پکڑا کر پتلی گلی سے امریکہ نکل گیا۔
بھائی کو ایسے بھی لوگ ملے جن کی اپنی جیب میں پورے دن اوبر چلانے کے بعد پچاس ساٹھ ڈالر نہیں ہوتے تھے اور وہ بھائی سے فرمائشیں کرتے کہ دو لاکھ کا انتظام کردیں تو ایک بالٹی بہادر آباد ایک کراچی اسٹاک ایکسچینج اور ایک کراچی شپیارڈ کو ہلا کر رکھ دے گی، یہاں بالٹی سے مراد آرڈی ایکس سے بھری پیٹی ہوتی تھی۔ راقم کو یہ سب کچھ بیگو اپلیکشن پر ایک سٹنگ آپریشن کے ذریعے انڈر کور رہ کر علم ہوا۔
اب بات ہو جائے مشہور زمانہ کہکشاں حیدر المعروف سرغنہ ٹارگٹ کلر گروہ، یقین جانیئے صاحب میں اپنی زندگی میں اتنا نہیں ہنسا ہوں گا جتنا یہ خبر دیکھ کر ہنسا ہوں کہ محترمہ ایک گروہ چلا رہی ہیں۔ یہ خاتون منہ سے ہوائی فائرنگ کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ البتہ ان کے خیالات کچھ کچھ ایسے ہی ہیں جیسا کہ رینجرز کی پریس کانفرنس میں دکھایا گیا تھا، بلکہ اگر اس میں اضافہ کی گنجائش ہو تو ان کا ایک یہ مشہور ڈائیلاگ بھی کافی مشہور ہوا تھا کہ میں ایک دن کھوپڑیوں کی مینار دیکھنا چاہتی ہوں اور اپنے ہاتھوں سے بغدہ لے کر ٹوٹے ٹوٹے کروں گی چن چن کر۔ یہ کوئی گروہ نہیں چلا رہی ہیں یہ بس ڈیلاس میں اوبر چلارہی ہیں اور اصل میں ان سے ہمدردی کے علاوہ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک محنتی سی انشاللہ ماشا اللہ والی دینی سے اہل تشیع گھریلو خاتون ہیں، دن رات محنت کرکے اپنا گھر بار چلا رہی ہیں اپنے بیٹے کی تعلیم کو لے کر پریشان ہیں، یہ اپنے بھائی کامران حیدر کی موت کے بعد سے ذہنی و نفسیاتی طور پر بے حد غیر متوازن سوچ کی حامل ہو چکی ہیں۔ ان کے یہ مرحوم بھائی ایک انتہائی شریف النفس ایم کیو ایم کے کارکن تھے جنہیں امریکہ میں ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا تھا اور یہ ایک گھریلو تنازعہ تھا جسے وہ اکثر تحریکی شہادت کرکے پیش کرتی ہیں۔ان سب باتوں کا یہاں مقصد ان کی ذاتی زندگی کا ذکر نہیں بلکہ یہ بات عوام تک پہچانا ضروری ہے کہ ریاستی مشینری جب چاہے کسی کو بھی ایک گبر سنگھ بنا کر پیش کر سکتی ہے اب چاہے وہ کہکشاں حیدر ہو یا مریم نواز شریف۔
بائیس اگست کے بعد راقم بھی الطاف بھائی کے نزدیک آیا اور ان کے ساتھ مشاورت اور تبادلہ خیال کا ایک اہم جزو رہا، اس دوران کبھی خوشی کبھی غم کے مانند پیار بھری ناراضگی، واٹس ایپ بلاک اور انبلاک کا کھیل بھی جاری رہا، لیکن اس امید پر کہ بھائی کی زندگی میں چند ایسے لوگوں کی اشد ضرورت ہے جو ان کو تصویر کا وہ رخ بھی دکھا سکے جو ان کے مصاحبین انہیں دیکھنے نہیں دیتے۔ راقم نے بھائی کو بس یہی بات زور دے کر کہی کہ آپ کا ووٹ بینک اور لوگوں کی محبت کا بینک دونوں ہی شہری سندھ میں ہے، نہ کہ وزیرستان، بلوچستان یا بنارس لکھنو دلی میں۔ اس کے لئے گراونڈ پر ہونا ضروریی ہے اور گراونڈ پر ہونے کے لئے اس کی حدود اور ضوابط کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ یعنی پاکستان کی سلامتی اور ریاستی اداروں کی اہمیت کو سمجھ کر ایسے چلنا ہوگا جیسے زرداری، نواز شریف یا مولانا فضل چلتے ہیں۔ لیکن یہ بات گوش گزار کرنے کے اگلے دن تک مصاحبین برین واش کے ذریعے سب کچھ واش کروا چکے ہوتے تھے اور سب کچھ لاحاصل۔
اٹھارہ مارچ یوم تاسیس پر مکہ چوک اجتماع والی واردات بھی ایک نئے رومانس کی پیداوار ہے جو آج کل قرب کی منزلوں کو انجوائے کر رہے ہیں، ایک ذریعے کے مطابق جنرل باجوہ کے کسی دور پار کے پیرو مرید سلسلے کے کسی نقش بندی سلسلے کے صوفی حضرت نے جو اردو اسپیکنگ کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں بس اتنا کہا تھا کہ بھائی اگر پاکستان کی بات کریں تو ان کو اسپیس مل سکتی ہے۔ اس بات کو لے کر کارگو نامی بھائی نے لمبی چوڑی چھوڑ کر بھائی کو قائل کر لیا کہ بس سب طے ہو گیا ہے آپ کی اہمیت کو سمجھ لیا گیا ہے اور راستہ کھل گیا آپ بے فکر ہو جائیں اور اب ساتھی ترانہ مکا چوک پر گونجنے ہی والا ہے۔ میرے سادہ سے الطاف بھائی نے اس بات پر بھی یقین کر لیا اور کچھ قریبی ساتھیوں کو اعتماد میں لے کر اعلان کر دیا۔ بعد میں وہ مولانا حضرت فون اٹھانے سے گریزاں ہیں شاید وہ خود شمالی علاقوں کی سیر کو نکل گئے ہوں گے۔
پاکستان کے موجودہ حالات میں جبکہ سب ٹھیک چل رہا ہے، بہادر آباد، پی آئی بی اور ڈیفنس متحدہ بھی یاد الہی میں مشغول ہیں دنیا کا کاروبار بھی چل رہا ہے ایسے میں کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی کہ کسی کو متحدہ لندن کی کوئی فکر لاحق ہو۔ لیکن بھائی کے آڈیو خطاب میں جو نرم گوشہ اور لہجہ محسوس ہوا اس سے ایک بات کی خوشی ہوئی کہ بھلے کسی غلط فہمی کے نتیجے میں سہی لیکن یہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکیں جاری رہنا چاہیں کیونکہ آج اگر کھڑکی کا ایک پٹ کھلا ہے تو کل دروازہ بھی کھل جائے گا اب چاہے وہ نائن زیرو کا ہو یا ریاست کی عقل کا !!۔۔۔ہائے رے میری خوش فہمیاں ۔۔۔

3 comments

  1. Excellent piece, very well written article, it truely reflects on what is happening in Pakistan

    Keep up the good work.

    God bless you

    Like

  2. بہت ہی زبردست قلم لکھا ہے اگر آپ عمل کیا جائے تو وہ دن دور نہیں کہ پاکستان مدینہ ریاست نہ بن جائے

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s